اتنی ساری زبانیں، اتنے سارے تہوار، اتنے سارے کھانے اور گیت - اور پھر بھی، ایک ملک جو ان سب کو تھامے ہوئے ہے۔ یہی وہ سانجھا گھر ہے جس کے لیے آپ کا شہری شعور ہے۔ یہاں اُس چیز کی ایک جھلک ہے جس کی ہم سب دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
سب کے لیے۔ نہ کوئی اکاؤنٹ، نہ آپ کے بارے میں کچھ جمع کیا جاتا ہے۔
فرق ہی جو باندھے رکھتا ہے
بھارت ایک جیسے بنائے گئے لوگوں کا نام نہیں۔ یہ بہت سے لوگ ہیں جو ایک ملک میں ساتھ رہتے ہیں - اور یہ فرق کوئی خرابی نہیں جسے ٹھیک کیا جائے۔ یہی تو پوری بات ہے۔
آئین ہر شہری سے یہ تقاضا کرتا ہے:
“to promote harmony and the spirit of common brotherhood amongst all the people of India transcending religious, linguistic and regional or sectional diversities.”
سنگِ مرمر کا ایک مقبرہ، چٹانوں میں تراشی گئی غاریں، ایک پہاڑی ریل، شیروں سے بھرے مینگروو کے جنگل - ایسی حیرت انگیز جگہیں کہ دنیا نے انہیں قائم رکھنے میں مدد کا عہد کیا۔
بھارت میں 44 جگہیں یونیسکو کے عالمی ورثہ مقامات ہیں۔
چٹائی پر یوگا، ایک تہوار جو پورے شہر کو بھر دیتا ہے، ایک ہنر جو ہاتھوں ہاتھ منتقل ہوتا ہے - ایسی روایتیں جو رکھ چھوڑنے سے نہیں بلکہ کیے جانے سے زندہ رہتی ہیں۔
بھارت کی 16 زندہ روایتیں یونیسکو کی ورثہ فہرست میں شامل ہیں۔
مندر کی گھنٹی، اذان کی صدا، گرجا گھر کا نغمہ، گُردوارے کا لنگر - اکثر ایک ہی گلی میں، اکثر ایک ہی ہفتے میں۔ آس پاس کوئی نہ کوئی ہمیشہ کچھ نہ کچھ منا رہا ہوتا ہے۔
ہر چند سو کلومیٹر پر ایک نیا کھانا
ایک ہی اناج سو مختلف کھانوں میں ڈھل جاتا ہے۔ ہر علاقہ آپ کو اپنے انداز میں کھلاتا ہے - اور ہر علاقہ خاموشی سے یقین رکھتا ہے کہ اُسی کا انداز سب سے بہتر ہے۔
اور یہ رہا وہ حصہ جو آپ کا ہے
چھوٹی چھوٹی باتیں اِسی کی حفاظت کرتی ہیں
آئین ہر شہری سے یہ تقاضا کرتا ہے:
“to value and preserve the rich heritage of our composite culture.”
بڑے بڑے اقدام سے نہیں، بلکہ اُس ریپر سے جو آپ کوڑے دان تک لے جاتے ہیں، اُس ہارن سے جسے آپ بلاوجہ نہیں بجاتے، اُس جگہ سے جو آپ کسی اجنبی کے لیے بناتے ہیں۔ اتنا رنگا رنگ ملک صرف تب ہی جُڑا رہتا ہے جب ہم میں سے ہر کوئی اپنے چھوٹے سے کونے کو مہربان رکھے۔